اشاعتیں

کرونا وائرس کی وجہ سے ہونے والے ایسے واقعات جنہوں نے دنیا کو حیران کردیا

تصویر
1۔ تارکین وطن کو روکنے والی دیوار نے اپنے لوگوں کو تارکین وطن کر ڈالا 2۔ حجاب پر سزا دینے والا بغیر نقاب والوں کو سزا دینے پر مجبور 3۔ مسجدوں پر قفل ڈلے مگر اذان دنیا بھر میں پھیل گئی 4۔ غریب ملک کو جان بچانے کے لیے چھوڑا مگر امیر ملک میں مر گئے 5۔ لائف بوٹس جان بچانے کا ذریعہ بن گئیں کرونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اس وبا نے بڑی بڑی سپر پاورز کو زیرو کر دیا ہے بڑے بڑے دعویٰ کرنے والے اپنی عوام کو اس وبائي مرض سے بچانے میں قطعی ناکام ہو چکے ہیں اور ان کی عوام ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ ایک جانب تو مسجدوں میں تالے لگ گئے ہیں تو اللہ اکبر کی صدائيں پوری دنیا میں پھیل گئي ہیں اور اللہ جل جلالہ نے اپنی طاقت کو صرف ایک نادیدہ وائرس کے ذریعے نہ صرف منا لیا ہے بلکہ ان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے- یہاں تک کہ دنیا بھر میں صحت کے بہترین ترین نظام کو بنانے والے اٹلی کے وزير اعظم بھی بے ساختہ یہ کہنے پر مجبو ہو گئے کہ ہم اپنی ہر طاقت استعمال کر چکے ہیں اب بس ایک اللہ کی ذات ہی سے امید بچی ہے وہی چاہیں تو کچھ ہو سکتا ہے ...

مختلف ممالک کی پولیس کے زیرِاستعمال دنیا کی تیز رفتار گاڑیاں, ان گاڑیوں کے سامنے مجرم فرار ہونے کا سوچتے بھی نہیں

تصویر
پولیس کا محکمہ ہر ملک میں انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ اس کا کام قانون نافذ کرنا ہوتا ہے- اس محکمے کی بہترین صلاحیتوں کا دارومدار اس کو ملنے والی جدید سہولیات پر ہوتا ہے جس میں ان کو دی گئی گاڑیاں اور ہتھیار مرکزی کردار ادا کرتے ہیں- یہ گاڑیاں عام گاڑیوں سے کچھ مختلف اور جدید ہوتی ہیں اور بعض اوقات خوبصورت بھی- ہم یہاں دنیا کے مختلف ترقی یافتہ ممالک کی پولیس کے زیر استعمال چند انتہائی تیز رفتار کاروں کا ذکر کر رہے ہیں٬ جن کے ذریعے یہ پولیس شہر بھر میں قانون نافذ کرتی ہے اور مجرموں کا پیچھا کرتی ہے اور ان کو پکڑنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔  Lamborghini Gallardo  اٹلی کی پولیس کے لیے اس گاڑی میں بیٹھ کر فرار کی کوشش کرنے والے مجرم کا تعاقب کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے- طاقتور انجن کی حامل اس تیز رفتار کار کے مجرم کا پکڑا جانا یقینی ہے- اس گاڑی میں 560 ہارس پاور کی طاقت کا حامل انجن نصب ہوتا ہے جبکہ اس کی حد رفتار 325 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔  Mercedes-Benz Brabus Rocket   جرمن کاروں کے بارے میں تو لوگ جانتے ہی ہیں لیکن جرمنی کی پولیس کے پاس...

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی ملتان میں ایس ایچ او پر برہم ہوگئے

تصویر
کام کرنا ہے تو کرو لیکن بدتمیزی نہیں کرنے دوں گا، آئی جی بھی آگیا تو تھانے سے پکڑ لوں گا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا ایس ایچ او سے مکالمہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ملتان میں ایس ایچ او پر برہم ہوگئے، انہوں نے ایس ایچ او کو کہا کہ اگر کام کرنا ہے تو کرو، بدتمیزی نہیں کرنے دوں گا، آئی جی بھی آگیا تو تھانے سے پکڑ لوں گا۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے وائس چیئرمین اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے قریبی ساتھی رانا افضل نے ایس ایچ او تھانہ ممتاز آباد کی شکایت کی کہ ان کا عوام کے ساتھ رویہ ٹھیک نہیں ہے۔ جس پر شاہ محمود قریشی تھانہ ممتاز آباد پہنچ گئے۔ انہوں نے وہاں جاکر ایس ایچ او طاہر اعجاز پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنا رویہ درست کریں۔ وزیر خارجہ کا ایس ایچ او سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کام کرنا ہے تو کرو اگر نہیں کرنا تو نہ کرو، لیکن بدتمیزی برداشت نہیں کروں گا۔ کسی صورت عوام سے بدتمیزی کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ اگر بدتمیزی کی تو چھوڑوں گا نہیں، اگر آئی جی پولیس بھی آگیا تو تمہیں تھانے سے پکڑ لوں گا۔ دوسری جانب ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے ۔

انڈیا، پاکستان کے فنکاروں کے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے قائم کرنے پر انڈیا میں ہندو انتہا پسند خفا

تصویر
پاکستان اور انڈیا میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے نہ صرف عام لوگ اپنے گھروں تک محدود ہوگئے ہیں بلکہ فلمی ستارے، گلوکار اور شوبز کی  دیگر معروف شخصیات بھی سماجی فاصلہ رکھنے پر مجبور ہیں ایسے میں لائیو ویڈیو چیٹ نے سرحدوں کا فاصلہ مٹا سا دیا ہے اور سوشل میڈیا صارفین دونوں ملکوں کے فنکاروں کی آپس کی بات چیت دیکھ اور سن پا رہے ہیں۔ آئے روز پاکستان اور انڈیا کے فنکار عام شہریوں کی طرح باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کر کے اپنے ان مداحوں کا دل بہلاتے ہیں جو خود اپنے اپنے گھروں کی قیدِ تنہائی میں بوریت کا شکار ہیں۔ لیکن انڈیا میں فلمی صنعت کی ایک تنظیم اس بات سے خوش نہیں ہے کہ انڈیا میں شوبز کی شخصیات پاکستانیوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف ہیں اور انھوں نے اس کے خلاف انڈین فنکاروں کو متنبہ بھی کیا ہے۔ انڈیا میں فلم انڈسٹری کی صنعت سے وابستہ افراد کی نمائندہ تنظیم 'فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سینی ایمپلائز' کی جانب سے ملک کے تمام موسیقاروں، گلوکاروں، فنکاروں اور تکنیکی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے ایک 'تنبیہ' جاری کی گئی۔ اس میں کہا گیا کہ 'تنظیم کی پ...

لاک ڈاؤن میں نرمی نہیں ہوئی مزید سخت ہوا ہے

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ پورے پاکستان میں لاک ڈاؤن میں نرمی نہیں ہوئی اس میں مزید سختی کی گئی ہے اور صرف کچھ جگہ پر رعایت دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا اگر کسی کو یہ تاثر گیا ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی ہوئی ہے تو یہ غلط ہے۔ انھوں نے کہا کہ مروجہ قواعد و ضوابط میں سختی لائی گئی ہے صرف چند صنعتوں اور شعبوں کو رعایت دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں دوسرے صوبوں کے وزرا اعلیٰ کے حوالے سے بات نہیں کر سکتا لیکن کم از کم صوبہ سندھ میں جتنی جان اور وسائل ہے ہم ان قواعد پر عمل درآمد کروائیں گے۔

مستقبل قریب میں وائرس کا حل نظر نہیں آ رہا، لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کریں: مراد علی شاہ

وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آئندہ دو ہفتوں تک لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کریں تاکہ ہمیں اسے مزید طویل نہ کرنا پڑے۔ انھوں نے کہا کہ ویکسین بننے تک اس وائرس کا خاتمہ ممکن نہیں اور مستقبل قریب میں وائرس کا حل نظر نہیں آ رہا۔ انھوں نے کہا کہ میں سخت لاک ڈاؤن کے نفاذ پر آج بھی قائم ہوں اور ہمیشہ سے چاہتا تھا کہ جلد از جلد لاک ڈاؤن ہو تاکہ جانیں بچائی جا سکیں۔

کورونا وائرس: ’یہ غلط فہمی ہے کہ پاکستان میں انفیکشنز دنیا سے کم ہیں۔

خلاصہ پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 6209 ہے جبکہ تین ہزار سے زیادہ متاثرین کے ساتھ پنجاب سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔ ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 114 ہے جبکہ 1579 افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔ ہلاک شدگان میں سے 41 کا تعلق سندھ، 38 کا خیبر پختونخوا،28 کا پنجاب، تین کا گلگت بلتستان اور دو کا بلوچستان سے ہے جبکہ دارالحکومت اسلام آباد میں بھی دو اموات ہوئی ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں لاک ڈاؤن میں 30 اپریل تک توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم تعمیرات کی صنعت سمیت چند شعبوں کو کھولنےکا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اندرونِ ملک پروازیں 21، جبکہ ٹرینیں 25 اپریل تک معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔